اڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا ہے
پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے
اڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا ہے
پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے
دو دن کی زندگی ہے
اسے دو ہی اصولوں پر گزارو
ملو تو پھول بن کر اور بکھرو تو خوشبو بن کر
#LifeQuotes #UrduPoetry #Inspiration #GoodVibes
#UrduQuotes #LifeLessons #Inspiration #Mindfulness #Wisdom #UrduPoetry #GoodVibes #PositiveThinking #BlogKeywords
फूल ने मुस्कुराकर कहा, तू अभी नादान है,
जीवन के कच्चे प्यार से अभी तू अनजान है।
देने के बदले कुछ लेना, वह तो कारोबार है,
जो देकर भी न मांगे, वही सच्चा प्यार है।
When I came close to her, the flower spoke to me,
You gave fragrance to all—what did you receive?
The flower smiled and said, “You are still innocent,
Unaware of life’s raw and fragile love.
To give only to take something back is just business,
But true love is that which gives—and never asks.
اس شعر کا مطلب کیا ہے؟
یہ شعر جگر مراد آبادی کا ہے، جو اپنی گہرائی اور فلسفیانہ انداز کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔
اس شعر کا سادہ اور جامع مطلب درج ذیل ہے:
·
دنیا میری بلا جانے مہنگی ہے یا سستی: شاعر
کہتا ہے کہ مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں کہ دنیا میں جینا مشکل (مہنگا) ہے یا آسان
(سستا)۔ وہ دنیا کی مادی قدر و قیمت سے خود کو بے نیاز ظاہر کر رہا ہے۔
·
موت ملے تو مفت نہ ہو: یہاں
شاعر ایک بہت بڑی بات کہہ رہا ہے کہ اگر مجھے موت بھی ملے، تو میں اسے
"مفت" یا "سودے" میں قبول نہیں کروں گا۔
·
ہستی کی ہستی ہے: اس کا مطلب ہے
کہ موت کی قیمت میری پوری "زندگی" یا میری "ہستی" (Existence) ہے۔ یعنی جینے کے لیے
بھی انسان کو اپنی جان کھپانی پڑتی ہے اور مرنے کے لیے بھی پوری زندگی کی قیمت
چکانی پڑتی ہے۔
مفہوم کا خلاصہ: شاعر کہنا چاہ رہا ہے کہ کائنات میں کچھ بھی مفت نہیں، یہاں
تک کہ موت پانے کے لیے بھی انسان کو اپنی پوری زندگی داؤ پر لگانی پڑتی ہے۔ یہ شعر
انسانی وقار اور زندگی و موت کی گراں مایہ قدر کو بیان کرتا ہے۔
Childhood Upbringing, Lifelong Impact!
यहाँ पहाड़ और तूफ़ान अहंकार और बल के प्रतीक हैं,
जबकि फ़कीरी का घर सादगी और ईश्वर से जुड़ाव दर्शाता है।
Mountains and storms symbolize arrogance and force, while the humble dwelling
of a mystic represents simplicity and closeness to God.