اس شعر کا مطلب کیا ہے؟
یہ شعر جگر مراد آبادی کا ہے، جو اپنی گہرائی اور فلسفیانہ انداز کی وجہ سے بہت مشہور ہے۔
اس شعر کا سادہ اور جامع مطلب درج ذیل ہے:
·
دنیا میری بلا جانے مہنگی ہے یا سستی: شاعر
کہتا ہے کہ مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں کہ دنیا میں جینا مشکل (مہنگا) ہے یا آسان
(سستا)۔ وہ دنیا کی مادی قدر و قیمت سے خود کو بے نیاز ظاہر کر رہا ہے۔
·
موت ملے تو مفت نہ ہو: یہاں
شاعر ایک بہت بڑی بات کہہ رہا ہے کہ اگر مجھے موت بھی ملے، تو میں اسے
"مفت" یا "سودے" میں قبول نہیں کروں گا۔
·
ہستی کی ہستی ہے: اس کا مطلب ہے
کہ موت کی قیمت میری پوری "زندگی" یا میری "ہستی" (Existence) ہے۔ یعنی جینے کے لیے
بھی انسان کو اپنی جان کھپانی پڑتی ہے اور مرنے کے لیے بھی پوری زندگی کی قیمت
چکانی پڑتی ہے۔
مفہوم کا خلاصہ: شاعر کہنا چاہ رہا ہے کہ کائنات میں کچھ بھی مفت نہیں، یہاں
تک کہ موت پانے کے لیے بھی انسان کو اپنی پوری زندگی داؤ پر لگانی پڑتی ہے۔ یہ شعر
انسانی وقار اور زندگی و موت کی گراں مایہ قدر کو بیان کرتا ہے۔
No comments:
Post a Comment